Recent-Post

header ads

ذکرِولادتِ رسول اور اس کی محفل منعقد کرنا ضرور مندوب ہے، حضور کا ذکر خدا کا ذکر ہے

 ذکرِولادتِ رسول اور اس کی محفل منعقد کرنا ضرور مندوب ہے، حضور کا ذکر خدا کا ذکر ہے، قَدْ جَآئَ کُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ میںنور سے مراد حضور ہیں،آپ کی ولادت کی رونق سے زمین و آسمان روشن ہوگئے،حضور تمام پاک صُلبوں میں منتقل ہوتے ہوئے تشریف لائے،میلاد ِمصطفی پہ سجاوٹ کرنا جائز و مستحسن ہے، اطلاقِ حکم کا معنیٰ،حاجی امداد اللہ  مہاجر مکی نے میلاد کو مستحسن فرمایا،پونے آٹھ سو برس سے میلاد ہوتا چلا آرہا ہے، امام علامہ تقی الدین نے قیامِ تعظیمی فرمایا،قیام کو ائمہ ٔ روایت و درایت نے مستحسن فرمایا،سب سے پہلے محفلِ میلادکس نے منعقد کی؟

مـسـئلـہ: ۸۱۸

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ:

آنحضور صلی اللہ  علیہ وسلم سے لے کر تبع تابعین تک کسی دور میں آج کل کے مروجہ میلاد و قیام کا ہونا ثابت ہے یا نہیں؟ اگر نہیں؟ تو اس پر اتنی سختی سے عمل کیوں؟ قیام و میلاد کا موجد اور بانی اور اس کی اصلیت و حقیقت قرآن و حدیث سے مدلل تحریر فرمائیں؟

مستفتی:  محمد حسین احمد

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

حضورِ اقدس صلی اللہ  علیہ وسلم کا ذکرِ جمیل ولادت ضرور خوب مندوب ہے اللہ  تعالیٰ نے حضور اقدس صلی اللہ  تعالیٰ علیہ سلم کے ذکر جمیل کو بلند فرمایا:

{وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ}[سورۂ الم نشرح۔ آیت-۴]

’’اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکربلند کردیا‘‘۔(کنزالایمان)

حدیثِ قدسی میں ارشاد ہوا کہ اے محمد !کیا جانتے ہو کیسے میں نے تمہارے ذکر کو بلند کیا؟ عرض کیا اے میرے رب! بغیر تیرے بتائے میں کیا جانوں، ارشاد ہوا:

’’جعلتک ذکرًا  من ذکری فمن ذکرک ذکرنی‘‘

’’میں نے تجھے اپنی یاد بنا لیا،تو جس نے تجھے یاد کیا اس نے مجھے یاد کیا‘‘۔

[کتاب الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ،الفصل الاول فی ما جاء من ذالک مجیٔ المدح،ج۱،ص۲۴،المکتبۃ العصریۃ، بیروت]

خود خدائے وحدہٗ لاشریک نے حضور ِاقدس صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکرِ جمیل فرمایا، چنانچہ قرآنِ عظیم،بعد حمدِ الٰہی حضور صلی 

اللہ  علیہ وسلم ہی کے اوصافِ کمال و جمال کا مداح ہے۔’’ مدارج النبوۃ‘‘ میں ہے:

’’در حقیقت قرآن ہمہ بعداز حمد و ثنائے الٰہی مبین اوصاف و کمالات اوست،صلی اللہ  علیہ وسلم‘‘[مدارج النبوۃ باب سوم دربیان فضل وشرف آں حضرت صلی اللہ  علیہ وسلم،ص۵۰،مطبع منشی نول کشور،کانپور]

نیز خود قرآن میں حضور اقدس صلی اللہ  علیہ وسلم کے ظہور و بعثت کا تذکرہ جابجا موجود:

 {قَدْ جَآئَ کُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ }[سورۂ مائدہ آیت-۱۵] ’’ تمہارے پاس اللہ  کی طرف سے نور آیا‘‘

 مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نور سے مراد حضور صلی اللہ  علیہ وسلم ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے حکایت کرتے ہوئے فرمایا:

’’مُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ‘‘۔[سورۂ صف آیت۔۶]

’’ایسے رسول کی خوشخبری دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا (صلی اللہ  علیہ وسلم)

حضورِ اقدس صلی اللہ  علیہ وسلم نے اپنا ذکر خود سنا اور خود فرمایا بھی ہے۔ حدیث میں ہے: حضرت عباس نے حضور کی اجازت سے حضور کے سامنے اشعار پڑھے۔ ان میں یہ شعر بھی ہے:

وانت لما ولدت اشرقت الار

ض وضاء ت بنورک  الافق

[کتاب الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ،الفصل الاول فیماوردمن ذکرمکانتہ عندربہ عزوجل، الباب الثالث فیماوردمن صحیح الاخبار،جزء۱،ص۱۱۱،المکتبۃ العصریۃ،بیروت]

’’جب آپ پیدا ہوئے زمین آپ کے نور سے چمک اُٹھی اور آسمان روشن ہوگئے‘‘۔

 نیز خود حضور فرماتے ہیں:

’’لم یزل ینقلنی فی الاصلاب الکریمۃالی الارحام الطاہرۃ حتٰی اخرجنی بین أبوی لم یلتقیا علٰی سفاح قط‘‘

[کتاب الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ،الفصل الاول فیماوردمن ذکرمکانتہ عندربہ عزوجل،الباب الثالث فیماوردمن صحیح الاخبار،جزء۱،ص ۱۱۰،المکتبۃ العصریۃ بیروت]

’’ اللہ  مجھے پاک نسبوں سے پاک بطنوں میں منتقل کرتا رہا، یہاں تک مجھے میرے ماں باپ سے پیدا فرمایا جنہوں نے کبھی زنا نہ کیا‘‘۔

 بالجملہ اصل ذکر ولادت مسنون ہے اور اس پر تمام کتبِ سِیَر و احادیث کا ذکر پاک ولادت سے پُر ہونا خود شاہد ہے، البتہ یہ کیفیتِ مروّجہ منقول نہیں،مگر عدمِ نقل، ہرگز نقلِ عدم نہیں۔ اسے اس کی دلیل بنانا سراسر جہالت ہے پھر اگر یہ تسلیم بھی کرلیں کہ عدمِ نقل،نقلِ عدم ہے، جب بھی اس امر کی ممانعت اس سے ثابت نہ ہوگی کہ کسی شیٔ کا نہ کرنا اور ہے اور اس سے منع کرنا اور۔

 مانعین کے امام الطائفہ اسماعیل دہلوی کے عمِ نسب وجدِّطریقت شاہ عبد العزیز صاحب’’ تحفۂ اثنا عشریہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

 ’’نکردن چیزے دیگرست، ومنع فرمودن چیزے دیگر است پُر ظاہر کہ کیفیات مثل اجتماع مردم واطعام و طعام‘‘[تحفۂ اثنا عشریہ،باب دہم مطاعن ابوبکررضی اللہ  تعالیٰ عنہ،ص۲۶۹،سہیل اکیڈمی، لاہور]

 اور زینت و آرائش کے اہتمام سے مقصود حضور اقدس صلی اللہ  علیہ وسلم کی تعظیم اور ان کے وجود کی خوشی کا اظہار ہے اور حضور صلی اللہ  علیہ وسلم کی تعظیم اور اظہارِ فرحت مطلقاً بلا تخصیصِ وقت و ہیئت مامور ہے اور شرعاً محبوب ہے تو یہ کیفیاتِ مذکورہ اس مامور بہ مطلق کا فرد ہو کر لا جرم محبوب و مرغوب ہوئیں، انہیں بدعتِ سیّئہ بتانا،لِلّٰہ انصاف، تعظیمِ مصطفی علیہ التحیۃ والثناء سے روکنا نہیں تو اور کیا ہے؟ ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم۔ بحمدہٖ تعالیٰ ہمیں اس قدر کافی کہ یہ کیفیات حکمِ مطلق کے تحت مندرج ہیں۔ اور جب شرعِ مصطفی سے حکمِ مطلق جواز و استحباب معلوم ہوا، تو ہر فرد کے لئے ثبوتِ قولی یا فعلی کی حاجت نہیں، باجماعِ عقل و نقلِ حکم مطلق اپنی تمام خصوصیات میں جاری و ساری۔

 اطلاقِ حکم کے معنی یہ ہیں کہ ماہیتِ کلیہ کا جہاں وجود ہواور اس پر حکم کا ورود ہو تو جس قدر خصوصیات و تعینات معقول ہوں سب اسی حکمِ مطلق میں داخل، جب تک کسی خاص کا استثنا شرعِ مصطفی سے ثابت نہ ہو۔

 وہابیہ کے امام میاں اسماعیل دہلوی خود’’ رسالہ بدعت‘‘ میں لکھتے ہیں:

 ’’درباب مناظرہ در تحقیق حکم صورت خاصہ کسے کہ دعویٰ جریان حکم مطلق در صورت خاصہ مبحوث عنہا نماید ہمانست متمسک باصل کہ در اثبات دعویٰ خود حاجت بدلیلے ندارد دلیل او ہماں حکم مطلق است‘‘۔[رسالۂ بدعت ازمیاں اسماعیل دہلوی]

 بہرکیف مانعین کہ اس عمل کو بدعتِ سیّئہ بلکہ معاذ اللہ  کنہیا کے جنم منانے کے مثل ٹھہراتے ہیں دلیل ان کے ذمہ ہے۔ قرآن و حدیث سے صریح ممانعت اس امر کی دکھائیں۔ مانعین کے حق میں حرف آخر اس باب میں یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ  دہلوی جدِّ نسب اسماعیل دہلوی ’’فیوض الحرمین‘‘ میں اپنا مکہ معظمہ میں میلاد کی محفل میں شریک ہونا اور اس میں انوارِ ملائکہ اور انوارِ رحمتِ الٰہی کا دیکھنا، شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ’’فتاویٰ عزیزیہ‘‘ میں اپنا معمول محفلِ میلادِ پاک منعقد کرنا لکھتے ہیں، نیز حاجی امداد اللہ  مہاجر مکی جو اکابر دیوبندیہ کے پیر ہیں وہ ’’فیصلہ ہفت مسئلہ ‘‘میں میلادِپاک کے مستحسن ہونے کا فیصلہ کرگئے اور خود عمل بتاگئے۔ 

اب مانعین کے فتویٰ سے یہ سب پکے بدعتی و مشرک ٹھہرے کہ نہیں؟ ضرور ٹھہرے۔ اور جب وہ بدعتی و مشرک ٹھہرے تو یہ طائفہ کیونکر بدعت و شرک سے بچے کہ جو بدعتی و مشرک کو اپنا امام و شیخ مانے، وہ ضرور ویسا ہی ہے۔ 

یوں نظر دوڑے نہ برچھی تان کر

 اپنا بیگانہ ذرا پہچان کر

محفلِ میلاد شریف سب سے پہلے صاحبِ اربل ملک مظفر ابو سعید کوکبری بن زین الدین علی نے منعقد کی،ان کی وفات ۶۳۰ھ میں شہر عکا کے محاصرہ میں ہوئی۔ علامہ ابو حامد بن مرزوق مصری رسا لہ’’ التوسل بالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وجہۃ الوہابیین‘‘ مطبوعہ ترکی استنبول میں فرماتے ہیں:

’’قال السیوطی واول من احدث عمل المولد صاحب أربل الملک المظفر ابوسعید کوکبری ابن زین الدین علی احد الملوک الأمجاد والکبراء الأجواد‘‘

[التوسل بالنبی وانکار جہلۃ الوہابیین وتکفیرہم لعامۃ المسلمین بالتوسل بہ،ص۱۰۳،مطبع مرکزاہل سنت برکات رضا، پوربندر،گجرات]
 اسی میں ہے:’’الی ان مات وھو محاصرٌ للافرنج بمدینۃ عکا، سنۃ ثلٰثین وستمأۃ، محمود السیرۃ والسریرۃ-اھ‘‘
[التوسل بالنبی وانکار جہلۃ الوہابیین وتکفیرہم لعامۃ المسلمین بالتوسل بہ،ص۱۰۳،مطبع مرکزاہل سنت برکات رضا، پوربندر،گجرات]
 یہاں سے معلوم ہوا کہ تقریبا پونے آٹھ سو برس سے محفلِ میلاد مسلمانوں میں متوارث ہے۔ اسی لئے مسلمان اس پر کاربند ہیں اور چاہیے بھی یہی کہ یہ عمل خود مرغوب پھر توارث سونے پر سہاگہ ہے۔’’ درمختار‘‘ میں ہے:
’’لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعہم‘‘۔  واللّٰہ تعالٰی اعلم
[الدرالمختار ج۳،ص ۶۵،باب العیدین،مطبع دارالکتب العلمیۃ، بیروت]
 قیامِ تعظیمی بھی صدہا برس سے مسلمانوں میں متوارث ہے،امام علام تقی الدین علی ابن عبد الکافی السبکی (جن کی جلالتِ شان اور مرتبۂ اجتہاد تک رسائی پر اجماع ہے کما صرح بذلک ابن حجر رحمہ اللہ  فی الفتاویٰ الحدیثیۃ،)
[الفتاویٰ الحدیثیۃ، ج ۱،ص۸۴ مطبع دارالفکر،بیروت] نے محفلِ میلاد میں قیام فرمایااور آپ کی معیت میں سب حاضرین نے قیام کیا اور اس سے بڑی فرحت حاصل ہوئی 
کما فی السیرۃ الحلبیۃ۔
[السیرۃ الحلبیۃ ج۱،ص۱۳۷،باب تسمیتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم محمدا،مطبع دارالکتب العلمیۃ، بیروت]
 علامہ سیّد برزنجی فرماتے ہیں کہ قیام کو ائمہ روایت و درایت نے مستحسن فرمایا۔واللّٰہ تعالٰی اعلم
[رسالہ میلادمبارک للعلامہ سیّدبرزنجی رحمۃ اللّٰہ علیہ،باب قیام بوقت ذکر تولدخیرالانام صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ص۲۵،۲۶ مطبع جامعہ اسلامیہ لاہور(ماخوذ ازفتاویٰ رضویہ مترجم ج۸) ]
((عِقْدُ الْجَوْھَرْ فِیْ مَوْلِدِ النَّبِیِّ الْاَزْھَرِ،صفحہ۲۷، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ،بیروت،لبنان۔ایضاً صفحہ ۱۰۶مطبوعہاصدارات الساحۃ الخزرجیۃ۔ابو ظبی،دولۃ الامارات العربیۃ المتحدۃ۔2008ء/1429ھ۔عِقْدُ الْجَوْھَرْ فِیْ مَوْلِدِ النَّبِیِّ الْاَزْھَر اُردو ترجمہ و تشریح بنام مولد ِبرزنجی از مولانا نور بخش توکلی۔ صفحہ25،جامعہ اسلامیہ۱۔فصیح روڈ،اسلامیہ پارک،لاہور۔عِقْدُ الْجَوْھَرْ فِیْ مَوْلِدِ النَّبِیِّ الْاَزْھَر،اُردو ترجمہ بنام مولودِ برزنجی از مولانا عبدالغنی نورا للہ شاہ قادری صدیقی لکھنوی شاگردِ رشید حضرت مولانا سلامت اللہ رحمۃ اللّٰہ علیہ صفحہ 26، مطبوعہ در مطبع نامی،لکھنؤ۔تخریج از میثم قادری))
فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہٗ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے