Recent-Post

header ads

مسلمان کو مسلمان،کافر کو کافرمانناضروریاتِ دین سے ہے

 مسلمان کو مسلمان،کافر کو کافرمانناضروریاتِ دین سے ہے

مـسـئلـہ: ۹۰

حضرت قبلہ استاد قاضی صاحب!  السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہٗ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:

زید کا کہنا ہے کہ کافر کو کافر کہنا مکروہ ہے اور اس کے جواب میں خالد کہتا ہے کہ کافر کو کافر کہنا فرض ہے۔ برائے کرم جوازو عدم جواز پر مفصل جواب مرحمت فرماویں کہ کون فریق کس حد کا مرتکب ہوا ہے۔

احقر العباد مولوی حبیب اﷲ۔
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اللّٰھم ہدایۃ الحق والصواب:
مسلمان کو مسلمان اور کافر کو کافر جاننا ضروریات دین سے ہے اور جو ضروریات دین کا منکر ہو وہ کافر ہے۔ یہ بات اور ہے کہ کسی خاص شخص کی نسبت یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا خاتمہ ایمان یا معاذ اﷲ کفر پر ہوا۔ تاوقتیکہ اس کے خاتمہ کا حال شرعی دلیل سے ثابت نہ ہو مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس شخص نے قطعاً کفر بکا یا کفری فعل کیا اس کے کفر میں شک کرنا جائز ہو جائے کہ جو کافر قطعی طور پر ہو اس کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ علما ایسوں کی نسبت فرماتے ہیں:
’’من شک فی عذابہ  وکفرہ کفر‘‘ [الدرالمختار، ج۶، ص۳۷۰، کتاب الجہاد، باب المرتد، دارالکتب العلمیۃ، بیروت]
 ضروریاتِ دین و ہ امور ہیں جن کو (ان کی شہرت کی وجہ سے) خواص و عوام سب ہی دین کی ضروری باتیں سمجھتے ہوں جیسے توحید، رسالت ومحمد مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا، نماز روزے کی فرضیت، شراب، جوئے کی حرمت اور اسی کے مثل اور باتیں، ان میں سے ہر ایک کا انکار کفر ہے۔’’ ردالمحتار‘‘ میں ہے:
’’ھو ما یعرف الخواص والعوام انہ من الدین کوجوب اعتقاد التوحیدو الرسالۃ والصلٰوۃ الخمس واخواتہا یکفر منکرہ‘‘
 [رد المحتار، ج۲، ص۴۴۰،کتاب الصلاۃ،باب الوتروالنوافل، دارالکتب العلمیہ، بیروت]
اسی میں ہے:
’’لاخلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام وان کان من اھل القبلۃ‘‘
[رد المحتار، ج۲، ص۳۰۰، کتاب الصلوٰۃ، باب الامامۃ، دارالکتب العلمیہ، بیروت]
’’ جو شخص ضروریاتِ اسلام کا مخالف ہو اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں، اگرچہ وہ اہلِ قبلہ میں سے ہو‘‘۔
 قرآنِ عظیم نے بہت سے مقامات پر کافروں کو کافر فرمایا، تو یہ کہنا کہ کافر کو کافر نہیں کہنا چاہیے، محض غلط و باطل ہے، ورنہ قرآنِ عظیم خود منع فرماتا، قرآن عظیم کا ارشاد ہے:
{وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وََّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ اِنَّہُمْ کَفَرُوْابِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَہُمْ فٰسِقُونَ}  [سورۂ توبہ۔ آیت-۸۴]
’’ان کی نماز جنازہ نہ پڑھیے ان کی قبر پر کھڑے نہ ہویئے، اس لیے کہ انھوں نے اﷲ و رسول کے ساتھ کفر کیا اور نافرمان مرگئے‘‘۔
  اور {قُلْ یٰٓاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ}[سورۂ کافرون۔ آیت-۱]
 میں تو محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم کو حکم دیا گیاکہ’’ آپ فرمادیجیے کہ اے کافرو!‘‘۔ معلوم ہوا کہ جو کافر ہو اسے کافرماننا ضروری ہے کہ اگر دیدہ ودانستہ اسے کافر نہ کہا تو کفر سے رضا ہوئی اور رضا بالکفر، کفر ہے ورنہ کوئی حرج نہیں کہ جو کھلا کافر ہے اسے کافر کہنے میں کیا شک ہے۔ اﷲ تعالیٰ کافروں کی مثال بیان فرماتا ہے: 
{مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ اَعْمَالُہُمْ کَرَمَادِناشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ-الآیۃ} [سورۂ ابراہیم۔ آیت-۱۸]
’’جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال اس راکھ سی ہے جس پر آندھی والے دن زور سے ہوا چلی وہ اپنے کیے میں کسی چیز پر قادر نہ ہوںگے‘‘۔
دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:
{وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ بِقِیْعَۃٍ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَآئً-الآیۃ} [سورۂ نور۔آیت-۳۹]
 ’’جنہوں نے خدا کے ساتھ کفر کیا ان کے کام اس سراب کی طرح ہیں جو میدان میں ہو جس کو پیاسا پانی سمجھتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ اس کے پاس جائے تو وہاں کسی چیز کا وجود اس کو نظر نہ آئے‘‘
لہٰذا زید کا قول سخت غلط و باطل ہے اور خالد صحیح کہتا ہے۔ زید پر توبہ لازم ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم۔
فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہٗ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے