Recent-Post

header ads

داڑھی بڑھائو، مونچھیں پست کرو[حدیث ]داڑھی ایک مشت سے کم کرنا حرام،فاسق کو سلام کرنا جائز نہیں،کافر بھنگی سے سلام کو جائز بتانے والا مفتری شرع ہے

 داڑھی بڑھائو، مونچھیں پست کرو[حدیث ]داڑھی ایک مشت سے کم کرنا حرام،فاسق کو سلام کرنا جائز نہیں،کافر بھنگی سے سلام کو جائز بتانے والا مفتری شرع ہے 

مـسـئلـہ: ۸۴۰تا۸۴۲

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:

(۱)داڑھی منڈے کو سلام کرنا جائز ہے یا نہیں؟

(۲)عوام کہتے ہیں کہ سلام خدا کو پہنچتا ہے تو کیا ان کا کہنا صحیح ہے؟

(۳)اور لوگوں کا کہنا ہے کہ بھنگی کو بھی سلام کرنا چاہیے اور رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہیں، ایسا کہنے والے پر شرع میں کیا حکم ہے؟ اس کا جواب تشفی بخش عنایت فرمائیں، جناب ازہری صاحب آپ بذاتہ تکلیف فرماکر اس استفتاء کا جواب لکھیں، مشکور ہوںگا۔

المستفتی: اسرار احمد،جگت پور، پرانا شہر، بریلی شریف

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۱)داڑھی منڈانایا ایک مشت سے کم کرانا مجوس و نصاریٰ کا طریقہ ہے جو حرام حرام حرام بدکام بدانجام ہے۔ حدیث میں ہے:

’’خالفوا المشرکین و فّروا اللحیٰ واحفوا الشوارب‘‘ 

’’مشرکوں اور یہود کی مخالفت کرو، مونچھیں پست کرو اور داڑھی بڑھائو‘‘۔

[بخاری شریف، ج۲، ص۸۷۵، کتاب اللباس، باب تقلیم الاظفار، مجلس برکات، مبارکپور]

 نیز حدیث میں ہے:’’من تشبہ بقوم فہو منہم‘‘ ’’جو جس قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے‘‘۔

[جامع الصغیر مع فیض القدیر، باب حرف المیم، ج۶، ص۱۳۵، دارالکتب العلمیۃ، بیروت]

 ’’درمختار ‘‘میں ہے:

’’یحرم علٰی الرجل قطع لحیتہ‘‘[درمختار، ج۹، ص۵۸۳، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، دارالکتب العلمیۃ، بیروت]

 اسی میں ہے:’’والسنۃ فیہا القبضۃ‘‘[درمختار، ج۹، ص۵۸۳، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، دارالکتب العلمیۃ، بیروت]

 اور داڑھی منڈا خلافِ شرع ایک نوعِ بدعت کا مرتکب ہے اور مرتکبِ بدعت کی تعظیم بحکمِ حدیث ہدمِ اسلام پر مدد ہے۔ حدیث میں ہے:

’’ومن وقر صاحب بدعۃ فقد أعان علی ہدم الاسلام‘‘ 

’’جس نے کسی صاحبِ بدعت کی تعظیم کی اس نے اسلام کے ڈھانے پر مدد کی‘‘۔

[مشکوٰۃ شریف، ص۳۱، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، فصل الثالث، مجلس برکات، مبارکپور]

 اور سلام تعظیم ہے تو کسی فاسق معلن کو سلام جائز نہیں کہ شرعاً اس کی تعظیم منع ہے۔’’ درمختار‘‘ میں ہے:

’’یکرہ السلام علٰی الفاسق لومعلنا‘‘ [درمختار، ج۹، ص۵۹۵، باب الحظر والاباحۃ مطبع دارالکتب العلمیۃ بیروت]

 اور عوام کا یہ کہنا کہ سلام خدا کو پہنچتا ہے، اس محل میں صحیح نہیں ہے کہ فاسق کی تعظیم جب شرعاً ممنوع ہے تو اسے بارگاہ احدیت سے علاقہ نہ رہا، ہاں جہاں شرع نے کسی کی تعظیم کا (جیسے سنی صحیح العقیدہ، بوڑھے، اور حافظ قرآن اور سنی عالم دین)حکم دیا ہے تو اس کی تعظیم ضرور اللہ  کے حکم کی تعظیم ہے۔ حدیث میں فرمایا ہے:

’’ان من اجلال اللّٰہ اکرام ذی الشیبۃ المسلم و حامل القرآن غیر الغالی و الجافی عنہ‘‘

[ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم، ص۶۶۵، مطبع اصح المطابع]

 اور جس نے یہ کہاکافر بھنگی کے متعلق کہ سلام جائز ہے، شریعتِ مطہرہ پر افترا کیا اور اس کی نسبت حضور سرورِ عالم صلی اللہ  علیہ وسلم کی طرف ناپاک جرأت ہے، جو بھنگی کافر ہے تو اس کافر کی تعظیم کفر ہے،’’ درمختار‘‘ میں ہے:

’’تبجیل الکافر کفر‘‘۔[در مختار، ج ۹، ص ۵۹۲، باب الاستبراء، دارالکتب العلمیہ، بیروت]

لہٰذا قائل پر توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے جبکہ بیوی رکھتا ہو۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم

فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہٗ

۸؍جمادی الاولیٰ ۱۳۹۷ھ / ۲۸؍اپریل ۱۹۷۷ء


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے