Recent-Post

header ads

گیارہویں شریف بلاشبہہ مستحب ہے،فاتحہ ومیلاد ولنگر کو جاہلانہ رسم کہنا افترا ہے،گیارہویں کی صدقہ کی ایک شکل ہے

 گیارہویں شریف بلاشبہہ مستحب ہے،فاتحہ ومیلاد ولنگر کو جاہلانہ رسم کہنا افترا ہے،گیارہویں کی صدقہ کی ایک شکل ہے 

مـسـئلـہ: ۸۴۷تا۸۴۸

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ:

ایک مولوی صاحب جو شہر ہاسن کے مرزا محلہ کی مومن آباد مسجد میں امام ہیں، حضرت جناب غوث پاک محبوب سبحانی کی 

گیارہویں شریف کے متعلق کہتے ہیں اور کلنڈروں میں لکھ کر شائع کرتے ہیں، مولوی صاحب کی تحریر کیلنڈروں پر یہ ہے: ’’ماہِ ربیع الثانی :یہ اسلامی سال کا چوتھا مہینہ ہے، حدیث سے اس ماہ میں کوئی محفل ثابت نہیں، بہت سے لوگ اس میں حضرت غوث اعظم کے نام سے گیارہویں کرتے ہیں، یہ محض ایک رسم ہے اس کی اتباع جاہلانہ طور پر کرتے ہیں، اس رسم کو عوام نے فرض و واجب کی طرح سمجھ رکھا ہے اور اکثروں کا اعتقاد ہے کہ گیارہویں کرنے سے سال بھر برکت رہتی ہے اور مصائب سے حفاظت،ورنہ نقصان ہوتا ہے، یہ عقیدہ بالکل فاسد ہے، خود حضرتِ غوثِ اعظم رضی اللہ  تعالیٰ عنہ ایسے عقیدے سے متنفر تھے، اس عقیدے اور عمل سے تائب ہونا ضروری ہے، نفع و نقصان کا مالک ایک اللہ  وحدہٗ لاشریک ہے اور بس‘‘۔ گیارہویں شریف سے لوگوں کو نفرت بھی دلا رہے ہیں۔

(۱)ایسے امام کے متعلق شرعی فیصلہ کیا ہے؟

(۲)کیا ان کے پیچھے ہم نماز پڑھ سکتے ہیں؟ برائے کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دے کرہم لوگوں کے لئے ہدایت روشن کریں۔فقط۔

اہلِ جماعت مومن آباد مسجد،محلہ ہاسن، (صوبہ کرناٹک)

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

گیارہویں شریف بلا شبہ مستحب بلکہ مجموعۂ مستحبات ہے کہ تلاوتِ قرآن و دعا و ایصالِ ثواب و اطعامِ طعام کا نام ہے، ان باتوں میں بھلا کون سی بات حرام و ناجائز ہے؟ اور جب فرداً فرداً کوئی بات ان میں حرام نہیں تو ان کا مجموعہ کیونکر حرام ہوگا؟ امام غزالی قدس سرہٗ العزیز ’’احیاء العلوم‘‘ میں فرماتے ہیں: 

’’فان افراد المباحات اذا اجتمعت کان ذالک المجموع مباحا ومہما انضم مباح الی مباح لم یحرم‘‘ [احیاء علوم الدین۔کتا ب آداب السماع والوجد۔الدرجۃ الثالثۃ،ج۔۴،ص،۴۲۸؍۴۲۷،دارالمنھاج بیروت ]

اور جب مجموعہ امورِ خیر کا حرام نہیں بلکہ بلا شبہہ محض خیر ہے تو اسے جاہلانہ رسم کہنا اور ٹھہرانا شرعِ مطہر پر افتراء بلکہ نئی شریعت گڑھنا ہے اور یہ کہنا کہ عوام نے اس کو فرض و واجب کی طرح سمجھ رکھا ہے، سفید جھوٹ ہے اور گیارہویں شریف کی بابت عوام کی عقیدت کو فاسد بتانا محض خیالِ فاسد ہے جس پر شرع سے اصلاً کوئی دلیل نہیں، تجربہ شاہد ہے کہ جو لوگ سیّدنا غوثِ اعظم رضی اللہ  عنہ کی نیاز کرتے ہیں، عجیب برکات سے مالا مال ہوتے ہیں اور صدقہ و خیرات کے برکات توخود حدیث سے ثابت ہیں اور گیارہویں بھی صدقہ کی ایک شکل ہے تو اس میں منفعتِ دِینی ودُنیوی بعطائے الٰہی ماننا کیوں فاسد ہو گیا؟ اور وہابی صاحب کا عام لوگوں کی طرح یہ کہنا کہ فلاں نے فائدہ پہنچایا، فلاں نے نقصان، کیوں شرک نہ ہوا؟ وہ شخص گمراہ بے دین ہے، اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز ہے۔ ’’فتح القدیر ‘‘میں ہے:

’’ان الصلٰوۃ خلف اھل الاھواء لا تجوز‘‘۔  واللّٰہ تعالٰی اعلم

[فتح القدیر، ج۱، ص۳۰۴،باب الامامۃ مطبع احیاء التراث العربی،بیروت]

فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہٗ 

شب ۲۲؍رمضان المبارک ۱۴۰۴ھ

صح الجواب۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہٗ القوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے