Recent-Post

header ads

خود ساختہ پنجوں کوپنجۂ حسین کہناجہلِ عظیم ہے،ان پنجوں اور عَلَم وغیرہ کو اُٹھانا ہرگز جائز نہیں،ہاتھوں کی لکیروں اور نام کے ذریعے کسی کا ستارہ بتانا از روئے شرع کیسا؟

 خود ساختہ پنجوں کوپنجۂ حسین کہناجہلِ عظیم ہے،ان پنجوں اور عَلَم وغیرہ کو اُٹھانا ہرگز جائز نہیں،ہاتھوں کی لکیروں اور نام کے ذریعے کسی کا ستارہ بتانا از روئے شرع کیسا؟

مـسـئلـہ: ۸۴۳تا۸۴۶

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین ان مسائل کے متعلق کہ:

(۱)ماہِ محرم میں جو پنجے وغیرہ بٹھائے جاتے ہیں ان کی اصل مسلک اہل سنت وجماعت میں کہاں سے ہے؟ بٹھانا اور گشت کرانا جائز ہے یا نہیں؟ مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں کیونکہ ایک کتابچہ ملا ہے جس میں تحریر ہے کہ پنجے شعائر میں داخل ہیں، بیعت رضوان کی آیات بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور ’’یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ‘‘۔[الفتح:۱۰] اور حدیث شریف اسی کے مطابق ’’الحسین منی وانا من الحسین‘‘ سے تعبیر کر کے اتنی جسارت کی گئی ہے کہ حسین کا پنجہ رسول کا پنجہ ہے اور رسول اللہ  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کا پنجہ اللہ  کا پنجہ ہے، انکار کرنا یا روکنا کفر ہے، اس سے عوام میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے کہ آخر حق اور باطل میں کیسے فرق کیا جائے؟

(۲)ہاتھ کی لکیروں اور نام کے ذریعہ کسی کا ستارہ دیکھ کر حالات بتانا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟ ایسے امام کی اقتدا کی 

جاسکتی ہے یا نہیں؟ 

(۳) بغیر عمامہ باندھے ٹوپی پر نماز پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ عمامہ باندھناہر مسلمان کے لئے سنت ہے یا صرف امام کے لئے؟ واضح جواب سے سرفراز فرمائیں۔

(۴)سورۃ الفتح کے اخیر رکوع کو نماز میں تلاوت کیا جائے اور رکوع و سجود کرکے دوسری رکعت میں بقیہ آیات پڑھی جائیں تو کیا نماز مکروہ ہوگی؟ فقط۔

المستفتی:  حافظ قدیر احمد، کرناٹک

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۱)خودساختہ پنجوں کو پنجۂ حسین سمجھنا جہلِ عظیم ہے اور اس کی تعظیم کرنا اپنے من گھڑت جھوٹ کی تعظیم ہے، ان پنجوں اور علم وغیرہ کو اُٹھانا ہرگز جائز نہیں اور اسے روکنے کو کفر بتانا، یہ بتانے والا خود کافر ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں کا ایک کافر ہے، اگر وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا تو وہ کافر ہے ورنہ کفر کہنے والے پر لوٹے گا اور اس جگہ بیعتِ رضوان کی آیات پڑھنا بے محل اور سخت منع ہے۔حسین کا پنجہ ضرور رسول اللہ  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کا پنجہ ہے، مگر اس نے خود ساختہ پنجہ کوحسین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کا پنجہ ٹھہرایا اور اللہ  تعالیٰ اس سے پاک ہے، اس کا ویسا ہاتھ نہیں جیسا ہماراہاتھ ہے اور ’’حسین منی وانا من الحسین‘‘ حدیث بھی بے محل پڑھی، بالجملہ مصنف کتابچہ کی جہالت ظاہر ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم

(۲)ناجائز ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم

(۳)عمامہ باندھنا مستحب ہے بغیر عمامہ کے بھی نماز بلا کراہت جائز اور عمامہ باندھ کر بہتر ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم

(۴)’’سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِالسُّجُوْدِ‘‘۔[سورۂ فتح۔آیت ۲۹]پروقف کرکے رکوع کرلیا اور دوسری رکعت میں بقیہ آیات پڑھیں، کچھ بُرا نہ کیا تو نماز مکروہ کیوں ہوگی؟۔واللّٰہ تعالٰی اعلم

فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہٗ

صح الجواب۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہٗ القوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے