Recent-Post

header ads

زید کو اقرار ہے کہ ہم نے طلاق دی ہے مگر وہ کہتا ہے کہ ہم کو یاد نہیں کہ دو طلاقیں دی ہیں یا تین؟ البتہ ایک شخص کا بیان ہے کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں تو اس صورت میں دو طلاقیں مانی جائیں یا تین؟

 مسئلہ: از عبدالرحمن مرسٹھوا۔ پوس گنیش پور ضلع بستی

زید کو اقرار ہے کہ ہم نے طلاق دی ہے مگر وہ کہتا ہے کہ ہم کو یاد نہیں کہ دو طلاقیں دی ہیں یا تین؟ البتہ ایک شخص کا بیان ہے کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں تو اس صورت میں دو طلاقیں مانی جائیں یا تین؟

الجواب: جب کہ اس بات میں شک ہے کہ دو طلاقیں دی ہیں یا تین، تو اس صورت میں دو ہی طلاقیں مانی جائیں گی جیسا کہ درمختار مع شامی جلد دوم ص ۴۵۴ میں ہے: لوشک اطلق واحدا اواکثر مبنی علی الاقل۔ اور ایک شخص کی گواہی سے تین کا حکم نہ کیا جائے گا تاوقتیکہ دو عادل گواہوں سے اس کا ثبوت نہ ہو۔ البتہ اگر شوہر کو تین طلاقیں دینا یاد ہے مگر وہ حلالہ سے بچنے کے لئے اس طرح کا بیان دیتا ہے تو وہ زنا کار و مستحق عذاب نار ہوگا۔ ھٰذا ماعندی وھو اعلم بالصواب۔

کتبہ: انوار احمد قادری


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے