Recent-Post

header ads

ہمارے برادران میں ایک شخص ایک عورت لایا ہے کافی عرصہ ہوا مجھ پنچان کو ابھی تک یہ نہیں معلوم تھا کہ عورت بے طلاقی ہے اب تک ہم لوگ اس کے ساتھ کھاتے پکاتے رہے ایک مجمع میں اس کا شوہر آیا

 مسئلہ: از جملہ پنچان امیٹھی مرسلہ سمیع اللہ پورے خوشیال

ہمارے برادران میں ایک شخص ایک عورت لایا ہے کافی عرصہ ہوا مجھ پنچان کو ابھی تک یہ نہیں معلوم تھا کہ عورت بے طلاقی 

ہے اب تک ہم لوگ اس کے ساتھ کھاتے پکاتے رہے ایک مجمع میں اس کا شوہر آیا اس نے بیان کیا کہ اللہ و رسول کے درمیان میں یہ کہتا ہوں کہ ابھی تک میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے اور زبردستی مجھ سے طلاق کے لئے میرے سینے پر سوار ہو کر بھالا کی نوک دکھا کر کہا کہ تم طلاق نامہ پر اپنے انگوٹھے کی نشانی لگا کر طلاق د ورنہ جان سے ختم کر دیں گے میں نے مارے دہشت اور جان بچانے کے لئے طلاق نامہ پر انگوٹھا لگایا راضی خوشی سے نہیں۔ میں خود ہندی و اردو پڑھا ہوں میں اپنے ہاتھ سے برابر لکھ پڑھ سکتا ہوں اگر مجھے طلاق دینی ہوتی تو انگوٹھا کیوں لگاتا بلکہ طلاق نامہ لکھتا۔ یہ طلاق نامہ عورت میکے میں لی گئی اور دوسری شادی جو عورت نے کی تو یہی جعلی طلاق نامہ دکھا کر کی۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور دوسرا نکاح درست ہے یا نہیں؟

الجواب: صورت مستفسرہ میں اگر شخص مذکور کے سینے پر سوار ہو کر اور برچھا کی نوک دکھا کر طلاق نامہ پر انگوٹھا کا نشان لگوایا گیا تھا اور شخص مذکور نے نہ دل میں طلاق کا اراادہ کیا تھا اور نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تھا تو طلاق واقع نہ ہوئی تھی لہٰذا دوسرے شخص کا اس عورت کو اپنے نکاح میں لانا شرعاً درست نہیں بلکہ وہ عورت بدستور شخص اوّل کی بیوی ہے تو دوسرا شخص حکم شرعی معلوم ہو جانے کے بعد اس عورت کے ساتھ میاں بیوی کے تعلقات ہرگز ہرگز قائم نہ رکھے ورنہ دونوں سخت حرام کار، نہایت بدکار، زنا کار، لائق عذاب قہار اوردین و دنیا میں روسیاہ و شرمسار ہوں گے اور اس سے پہلے جو کچھ گناہ ہوا اس سے دونوں علانیہ توبہ و استغفار کریں۔ وھو سبحانہ تعالٰی ورسولہ الاعلٰی اعلم۔

کتبہ: جلال الدین احمد الامجدی

 ۱۶؍ محرم الحرام ۱۳۸۱ھ؁


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے