Recent-Post

header ads

زید اپنی غیرمدخولہ بیوی کے بارے میں چاہتا تھا کہ وہ بکر کے یہاں نہ جائے لیکن وہ مانتی نہیں تھی۔ آخر زید کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا اگر اب وہ بکر کے یہاں گئی تو اس پر طلاق۔ پھر ایک طلاق اور پھر ایک طلاق۔ لڑکی کے باپ نے کہا زید کو ہمارے

 مسئلہ: از مولوی قیام الدین احمد خاں موضع پڑرہا پوسٹ لوٹن ضلع بستی

زید اپنی غیرمدخولہ بیوی کے بارے میں چاہتا تھا کہ وہ بکر کے یہاں نہ جائے لیکن وہ مانتی نہیں تھی۔ آخر زید کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا اگر اب وہ بکر کے یہاں گئی تو اس پر طلاق۔ پھر ایک طلاق اور پھر ایک طلاق۔ لڑکی کے باپ نے کہا زید کو ہمارے

یہاں سے روکنے کا اختیار نہیں ہے۔ جب اس کے یہاں جائے گی تب روکے گا اس بناء پر لڑکی بکر کے یہاں ایک شادی میں گئی۔ تو اس پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں‘ اور واقع ہوئی تو کون سی طلاق؟ کیا زید اسے دوبارہ اپنے نکاح میں لا سکتا ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب: صورت مسئولہ میں چونکہ عورت غیرمدخولہ ہے اس لئے صرف ایک طلاق واقع ہوئی اور باقی دو لغو ہو گئیں۔ زید عورت کی مرضی سے نئے مہر کے ساتھ اس کو دوبارہ اپنے نکاح میں لا سکتا ہے حلالہ کی ضرورت نہیں۔ بہا رشریعت حصہ ہشتم ص ۱۷ پر غیرمدخولہ کی طلاق کے بیان میں ہے اگر یوں کہا کہ اگر تو گھر میں گئی تو تجھے ایک طلاق ہے اور ایک کہا تو ایک ہو گی۔ اور درمختار مع شامی جلد دوم ص ۴۵۷ میں ہے: تقع واحدۃ ان قدم الشرط لان المعلق کالمنجز۔ وھو تعالٰی ورسولہ الاعلٰی اعلم جل جلالہ وصلی اللّٰہ علیہ وسلم۔

کتبہ: انوار احمد قادری

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے