Recent-Post

header ads

زید اپنی بیوی ہندہ مدخولہ سے کسی بات پر جھگڑ رہا تھا اور اس نے اسی درمیان اپنی بیوی سے یہ بھی کہا کہ خدا کی قسم میں تجھے طلاق دے دوں گا، دے دوں گا، دے دوں گا اور چوتھی مرتبہ اس نے کہا جا میں نے تجھے طلاق دے دی تو ہندہ پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

 مسئلہ: از سخاوت علی ساکن ہردی پوسٹ بکھرا بازار ضلع بستی

زید اپنی بیوی ہندہ مدخولہ سے کسی بات پر جھگڑ رہا تھا اور اس نے اسی درمیان اپنی بیوی سے یہ بھی کہا کہ خدا کی قسم میں تجھے طلاق دے دوں گا، دے دوں گا، دے دوں گا اور چوتھی مرتبہ اس نے کہا جا میں نے تجھے طلاق دے دی تو ہندہ پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب: صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہوئی۔ عدت کے اندر عورت کی مرضی کے بغیر بھی اس سے رجعت کر سکتا ہے نکاح کی ضرورت نہیں اور بعد عدت اس کی مرضی سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے حلالہ کی ضرورت نہیں۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمتہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں: فی الخیریۃ سئل فی رجل قال لزوجتہ روحی طالق ھل تطلق طلاق رجعیا ام بائنا واذا قلتم تطلق رجعیا فما الفرق بینہ وبین مااذا قتصر علی قولہ روحی ناویا بہ الطلاق حیث افتیتم بانہ بائن اجاب بانہ فی قولہ روحی طالق معناہ روحی بصفۃ الطلاق فوقع بالصریح بخلاف روحی فان وقوعہ بلفظ الکنایۃ (فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص ۵۰۹) وھو تعالیٰ اعلم بالصواب۔

کتبہ: جلال الدین احمد الامجدی

۳۵؍ شوال ۱۴۰۲ھ؁


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے