Recent-Post

header ads

عمرو نے اپنی بیوی زینب سے کہا کہ تجھ کو میں عقل و ہوش کے ساتھ طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں زوجین بالغ ہیں ابھی خلوت صحیحہ تک نہیں ہوئی ہے تحریر فرمائیں کہ کون سی طلاق واقع ہو گی؟

مسئلہ: ازمحمد اخلاق ضلع بستی

عمرو نے اپنی بیوی زینب سے کہا کہ تجھ کو میں عقل و ہوش کے ساتھ طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں زوجین بالغ ہیں ابھی خلوت صحیحہ تک نہیں ہوئی ہے تحریر فرمائیں کہ کون سی طلاق واقع ہو گی؟

الجواب: صورت مسئولہ میں اگر عمرو نے اپنی غیر مدخولہ بیوی زینب کو الگ الگ تین طلاقیں دیں تو ایک طلاق بائن واقع ہوئی اور باقی دو لغو ہو گئیں لہٰذا عمرو اپنی مطلقہ بائنہ بیوی سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے فتاویٰ عالمگیری جلد اوّل مطبوعہ مصر ص ۳۴۹ میں ہے: اذا طلق الرجل امرأتہ ثلاثا قبل الدخول بھا وقعن علیہا فان فرق الطلاق بانت بالاولیٰ ولم تقع الثانیۃ والثالثۃ کذا فی الھدایۃ۔ یعنی اگر کسی نے اپنی مدخولہ بیوی کو تین طلاقیں دیں (مثلاً یوں کہا کہ میں نے تجھے تین طلاقیں دیں) تو تینوں واقع ہو جائیں گی (اور عورت مغلظہ ہو جائے گی) اور اگر طلاق میں تفریق کی (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو ایک طلاق بائن واقع ہو گی اور دوسری و تیسری لغو ہو جائیں گی۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم

کتبہ: جلال الدین احمد الامجدی

 ۲۲؍ صفر المظفر ۱۳۸۲ھ؁


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے