Recent-Post

header ads

خالد نے اپنی غیرمدخولہ بیوی زینب سے کہا کہ میں تجھ کو عقل و ہوش کے ساتھ طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں تو کون سی طلاق واقع ہوئی؟

 مسئلہ: مرسلہ مولانا محمد احسان اعظمی مدرسہ فیض الاسلام مہند اوّل ضلع بستی

خالد نے اپنی غیرمدخولہ بیوی زینب سے کہا کہ میں تجھ کو عقل و ہوش کے ساتھ طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں تو کون سی طلاق واقع ہوئی؟

الجواب: ایک طلاق بائن واقع ہوئی اور باقی دو طلاقیں لغو ہو گئیں لہٰذا خالد اپنی مطلقہ بائنہ بیوی زینب کے ساتھ اس کی مرضی سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے حلالہ کی ضرورت نہیں۔ درمختار میں ہے: ان فرق بانت بالاولٰی ولم تقع الثانیۃ بخلاف الموطوء ۃ حیث یقع الکل ملخصًا۔ یعنی اگر غیر مدخولہ کو الگ الگ طلاق دی (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو پہلی طلاق سے بائنہ ہو جائے گی اور دوسری نہیں پڑے گی بخلاف مدخولہ کے کہ اس پر سب پڑ جائیں گی اور فتاویٰ عالمگیری جلد اوّل ص ۳۴۹ میں ہے: اذا طلق الرجل امرأتہ ثلاثا قبل الدخول بھا وقعن علیہا فان فرق الطلاق بانت بالاولیٰ ولم تقع الثانیہ والثالثۃ کذا فی الھدایۃ۔ یعنی اگر کسی نے اپنی غیرمدخولہ بیوی کو تین طلاقیں دیں (مثلاً یوں کہا میں نے تجھے تین طلاقیں دیں) تو تینوں اقع ہو جائیں گی (اور عورت مغلظہ ہو جائے گی بغیر حلالہ شوہر اوّل کے لئے حلال نہ ہو گی) اوراگر طلاق میں تفریق کی تو ایک طلاق بائن واقع ہو گی اور دوسری و تیسری لغو ہو جائیں گی۔ واللّٰہ تعالٰی ورسولہ الاعلٰی اعلم

کتبہ: جلال الدین احمد الامجدی


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے