Recent-Post

header ads

چند مسلمانوں اور ہندؤں نے زید کی بیوی ہندہ کے بارے میں طلاق نامہ مرتب کر کے زید کو نشانی انگوٹھا لگانے پر مجبور کیا

 مسئلہ: چند مسلمانوں اور ہندؤں نے زید کی بیوی ہندہ کے بارے میں طلاق نامہ مرتب کر کے زید کو نشانی انگوٹھا لگانے پر مجبور کیا اور دھمکی دی کہ طلاق دے دو ورنہ ٹھیک نہ ہو گا اس وقت زید تنہا تھا اس کا کوئی معین و مددگار نہ تھا اس نے ڈر کی وجہ سے نشانی انگوٹھا لگا دیا نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا اور نہ دل سے نیت کی ہندہ کے وارثوں نے اس کا دوسری جگہ نکاح کر دیا کچھ دنوں کے بعد ہندہ پھر زید کے یہاں چلی آئی دریافت طلب یہ امر ہے کہ ہندہ پر وہ طلاق واقع ہوئی تھی یا نہیں؟ اور اب زید کو پھر سے نکاح کرنا پڑے گا یا نہیں؟

الجواب: صورت مسئولہ میں زید کو اگر لوگوں نے اس طرح مجبور کیا کہ جس میں قتل کر ڈالنے یا عضو کاٹ ڈالنے یا ضرب شدید کی صحیح دھمکی دی اور زید نے بھی سمجھا کہ ایسا نہ کرنے پر یہ لوگ ایسے ہی کر گزریں گے تو لوگوں کے اس خوف سے نشانی انگوٹھا لگا دیا مگر نہ دل میں ارادہ تھا نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تو ہندہ پرطلاق واقع نہ ہوئی نہ اب دوبارہ نکاح کی حاجت ہے۔ ہندہ زید کے لئے جیسے پہلے تھی ویسے ہی اب بھی رہے گی جیسا کہ بہار شریعت حصہ ہشتم ص ۱۰ پر ہے: ’’کسی نے شوہر کو طلاق لکھنے پر مجبور کیا اس نے لکھ دیا مگر نہ دل میں ارادہ ہے نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تو طلاق واقع نہ ہو گی مگر واضح ہو کہ مجبوری سے شرعی مجبوری مراد ہے محض کسی کے اصرار کرنے پر لکھ دیا‘ یا بڑا ہے اس کی بات کیسے ٹالی جائے یہ مجبوری نہیں۔ اس شرعی مجبوری کو اوپر کی عبارت ’’قتل کر ڈالنے یا عضو کاٹ ڈالنے یا ضرب شدید یعنی (زیادہ مار) کی صحیح دھمکی دی جس میں یہ شخص بھی سمجھے کہ ایسا نہ کرنے پر یہ لوگ ایسا ہی کر گزریں گے‘‘ سے بیان کر دیا گیا۔ واللّٰہ ورسولہ اعلم۔

کتبہ: نعیم الدین احمد عفی عنہ



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے