Recent-Post

header ads

زید کی شادی ہندہ کے ساتھ ہوئی بعد نکاح اس حال میں کہ نہ دخول کیا نہ خلوت کی زید نے ہندہ کوطلاق دے دی۔ طلاق کے الفاظ یہ ہیں: میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں

 مسئلہ: از سیّد خوشتر ربانی متعلم دارالعلوم ربانیہ علی گنج (باندا)

زید کی شادی ہندہ کے ساتھ ہوئی بعد نکاح اس حال میں کہ نہ دخول کیا نہ خلوت کی زید نے ہندہ کوطلاق دے دی۔ طلاق کے الفاظ یہ ہیں: میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں‘ میں اپنی بیوی کو طلاق ہوں‘ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں۔ اب پھر زید ہندہ ہی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو حلالہ کی ضرورت پڑے گی یا نہیں؟ بعض مفتیان کرام فرماتے ہیں کہ حلالہ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور ان کی دلیل یہ ہے کہ طلاق بائن ہوئی۔ بعض مفتیان عظام فرماتے ہیں کہ حلالہ کی ضرورت پڑے گی۔ وہ دلیل میں یہ آیت فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗط پیش کرتے ہیں۔ تو کیا صحیح ہے؟ تحریر فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

الجواب: بعون الملک الوھاب۔صورت مستفسرہ میں زید کی غیر مدخولہ بیوی ہندہ پر صرف ایک طلاق بائن واقع ہوئی لہٰذا زید اسے دوبارہ بغیر حلالہ اپنے نکاح میں لا سکتا ہے۔ فتاویٰ عالمگیری جلد اوّل مصری ص ۳۴۹ میں ہے: اذا طلق الرجل 

امرأتہ ثلاثا قبل الدخول بھا وقعن علیہا فان فرق الطلاق بانت بالاولیٰ ولم تقع الثانیۃ والثالثۃ وذلک مثل ان یقول انت طالق طالق طالق ا ھ۔ اور آیت کریمہ: فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗط الخ مدخولہ عورت کے بارے میں ہے کہ اس کا تعلق ماقبل کی آیت مبارکہ اَلطَّلاقُ مَرَّتَانِ الخ سے ہے جیساکہ تفسیر کبیر میں ہے: واعلم ان وقوع آیۃ الخلع فیما بین ھاتین الایتین کالشئی الاجنبی ونظم الایۃ اَلطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ۔ فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗط۔ اور اگر آیت مذکورہ مدخولہ کے ساتھ خاص نہیں تو اس کا معنی یہ ہے کہ اگر تین طلاقیں ثابت ہوں فلاتحل الخ اور تفریق کی صورت میں غیر مدخولہ کے لئے تین طلاقیں ثابت نہیں ہوئیں کہ پہلی کے بعد وہ وقوع طلاق کا محل نہیں رہتی صاوی میں ہے: والمعنیٰ فان ثبت طلاقھا ثلاثا فی مرۃ اومرات فلا تحل الخ کما اذا قال لھا انت طالق ثلاثا ا ھ۔ وھو تعالیٰ اعلم۔

کتبہ: جلال الدین احمد الامجدی

 ۲۳؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۹۹ھ؁

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے