Recent-Post

header ads

صبر کرنے والے گنہگار انسان جب جہنم میں جائیں گے تو خدا بھی اس انسان کے ساتھ جہنم میں جائے گا

 مسئلہ: از مولوی خلیل احمد۔ بیرگی۔ گریڈیہہ (بہار) 

میں بموضع بیرگی امامت اور بچوں کی دینی تعلیم کا کام انجام دیتا ہوں ایک روز رمضان شریف کے ماہ میں جمعہ کے دن نماز سے قبل اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ کی روشنی میں تقریر کرتے ہوئے آگے بڑھا یہاں تک کہ جمعہ کا خطبہ اور جمعہ کی فرض نماز جماعت کے ساتھ میں نے پڑھایا۔ اسی روز عصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد میرے ہی موضع کے تین طالب علم نوجوان شخصوں نے مجھ پر اعتراض کیا کہ آیت مذکورہ کا ترجمہ کرتے ہوئے تقریر کے درمیان آپ نے یہ کہا کہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘ اور صبر کرنے والے گنہگار انسان جب جہنم میں جائیں گے تو خدا بھی اس انسان کے ساتھ جہنم میں جائے گا جبکہ میں نے اپنی تقریر کے درمیان کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کیا ہے جس میں خدا کو جہنمی قرار دیا ہو اور میرے اس قول پر میرے مقتدیوں میں سے صرف ایک شخص میری بات کی تصدیق کرتا ہے باقی عوام کو کچھ یاد نہیں کہ میں نے کیا کہا ہے۔ لہٰذا آپ حضور عالی سے گزارش ہے کہ تین شخصوں کے کہنے کے مطابق اور میں ایک مقتدی کے کہنے کے مطابق ازروئے شرع کس حکم کے سزاوار ہیں۔ بینوا توجروا۔ 

نوٹ۔ خدا کو جہنمی قرار دینے والے کا عقد باقی رہا یا نہیں؟ 

الجواب: اگر آپ نے یہ جملہ نہیں کہا ہے کہ ’’صبر کرنے والے گنہگار انسان جب جہنم میں جائیں گے تو خدا بھی اس 

انسان کے ساتھ جہنم میں جائے گا‘‘ مگر طلبہ اس جملہ کو آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں تو وہ سخت گنہگار ہیں توبہ کریں‘ اور اگر طلبہ نے اس جملہ کو بطور معارضہ پیش کیا کہ جب اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے تو کیا صبر کرنے والے گنہگار انسان جب جہنم میں جائیں گے تو خدا بھی اس انسان کے ساتھ جہنم میں جائے گا تو انہوں نے اپنی جہالت سے معیت مکانی سمجھ کر معارضہ پیش کیا حالانکہ معیت سے مراد معیت بالعون والنصر ہے جو متقین، محسنین اور صابرین کے ساتھ خاص ہے جیسا کہ تفسیروں میں مذکور ہے المعیۃ بالعون والنصر وھٰذہ خاصۃ بالمتقین والمحسنین والصابرین اور یا تو ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے معیت کے معنی کی تشریح نہیں کی جو عوام کے لئے ضروری تھی بہرحال اس انداز کی گفتگو سے احترام لازم ہے۔ وھو تعالٰی اعلم۔

 جواب نوٹ: استفتاء کی عبارت سے ظاہر یہ ہے کہ کسی نے خداتعالیٰ کو جہنمی نہیں قرار دیا ہے لیکن اگر کوئی خداتعالیٰ کو جہنمی قرار دے نعوذباللّٰہ من ذٰلک  تو اس کا نکاح ضرور ٹوٹ جائے گا کہ یہ صریح کفر ہے۔ 

کتبہ: جلال الدین احمد الامجدی 

۱۵؍ ذی الحجہ ۱۳۹۸ھ؁

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے