QURBANI KE JANWAR KA BAYAN PART 2


 مسئلہ 6:  بھینگے جانور کی قربانی جائز ہے۔ اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں  اور کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو اس کی بھی قربانی ناجائز۔ اتنا لاغر جس کی ہڈیوں  میں  مغز نہ ہو اور لنگڑا جو قربان گاہ تک(1) اپنے پاؤں  سے نہ جاسکے اور اتنا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو اور جس کے کان یا دم یا چکی(2) کٹے ہوں  یعنی وہ عضو تہائی سے زیادہ کٹا ہو ان سب کی قربانی ناجائز ہے اور اگر کان یا دم یا چکی تہائی یا اس سے کم کٹی ہو تو جائز ہے جس جانور کے پیدائشی کان نہ ہوں  یا ایک کان نہ ہو اوس کی ناجائز ہے اور جس کے کان چھوٹے ہوں  اوس کی جائز ہے۔ جس جانور کی تہائی سے زیادہ نظر جاتی رہی اوس کی بھی قربانی ناجائز ہے اگر دونوں  آنکھوں  کی روشنی کم ہو تو اس کا پہچاننا آسان ہے اور صرف ایک آنکھ کی کم ہو تو اس کے پہچاننے کا طریقہ یہ ہے کہ جانور کو ایک دو دن بھوکا رکھا جائے پھر اوس آنکھ پر پٹی باندھ دی جائے جس کی روشنی کم ہے اور اچھی آنکھ کھلی رکھی جائے اور اتنی دور چارہ رکھیں  جس کو جانور نہ دیکھے پھر چارہ کو نزدیک لاتے جائیں  جس جگہ وہ چارے کو دیکھنے لگے وہاں  نشان رکھ دیں  پھر اچھی آنکھ پر پٹی باندھ دیں  اور دوسری کھول دیں  اور چارہ کو قریب کرتے جائیں  جس جگہ اس آنکھ سے دیکھ لے یہاں  بھی نشان کر دیں  پھر دونوں  جگہوں  کی پیمائش کریں  اگر یہ جگہ اوس پہلی جگہ کی تہائی ہے تو معلوم ہوا کہ تہائی روشنی کم ہے اور اگر نصف ہے تو معلوم ہوا کہ بہ نسبت اچھی آنکھ کی اس کی روشنی آدھی ہے۔(3) (ہدایہ، درمختار، عالمگیری)


          مسئلہ 7:  جس کے دانت نہ ہوں (4)یاجس کے تھن کٹے ہوں  یا خشک ہوں  اوس کی قربانی ناجائز ہے بکری میں  ایک کا خشک ہونا ناجائز ہونے کے لیے کافی ہے اور گائے بھینس میں  دو خشک ہوں  تو ناجائز ہے۔ جس کی ناک کٹی ہو یا علاج کے ذریعہ اوس کا دودھ خشک کر دیا ہو اورخنثٰی جانور یعنی جس میں  نر و مادہ دونوں  کی علامتیں  ہوں  اور جلّالہ جو صرف غلیظ کھاتا ہو ان سب کی قربانی ناجائز ہے۔(5)  (درمختار)
          مسئلہ 8:  بھیڑ یا دنبہ کی اون کاٹ لی گئی ہو اس کی قربانی جائز ہے اور جس جانور کا ایک پاؤں  کاٹ لیا گیا ہو اوس کی قربانی ناجائز ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ 9:  جانور کو جس وقت خریدا تھا اوس وقت اوس میں  ایسا عیب نہ تھا جس کی وجہ سے قربانی ناجائز ہوتی ہے بعد میں  وہ عیب پیدا ہوگیا تو اگر وہ شخص مالک نصاب ہے تو دوسرے جانور کی قربانی کرے اور مالک نصاب نہیں  ہے تو اوسی کی قربانی کر لے یہ اوس وقت ہے کہ اوس فقیر نے پہلے سے اپنے ذمہ قربانی واجب نہ کی ہو اور اگر اوس نے منت مانی ہے کہ بکری کی قربانی کروں  گا اور منت پوری کرنے کے لیے بکری خریدی اوس وقت بکری میں  ایسا عیب نہ تھا پھر پیدا ہوگیا اس صورت میں  فقیر کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ دوسرے جانور کی قربانی کرے۔(1) (ہدایہ، ردالمحتار)
          مسئلہ 10:  فقیر نے جس وقت جانور خریدا تھا اوسی وقت اوس میں  ایسا عیب تھا جس سے قربانی ناجائز ہوتی ہے اور وہ عیب قربانی کے وقت تک باقی رہا تو اس کی قربانی کرسکتا ہے اور غنی عیب دار خریدے اور عیب دار ہی کی قربانی کرے تو ناجائز ہے اور اگر عیبی جانور کو خریدا تھا اور بعد میں  اوس کا عیب جاتا رہا تو غنی اور فقیر دونوں  کے لیے اوس کی قربانی جائز ہے مثلاً ایسا لاغر جانور خریدا جس کی قربانی ناجائز ہے اور اوس کے یہاں  وہ فربہ ہوگیا تو غنی بھی اس کی قربانی کرسکتا ہے۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
          مسئلہ 11:  قربانی کرتے وقت جانور اوچھلا کودا جس کی وجہ سے عیب پیدا ہوگیا یہ عیب مضر نہیں  یعنی قربانی ہو جائے گی اور اگر اوچھلنے کودنے سے عیب پیدا ہوگیا اور وہ چھوٹ کر بھاگ گیا اور فوراً پکڑ لایا گیا اور ذبح کر دیا گیا جب بھی قربانی ہو جائے گی۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
          مسئلہ 12:  قربانی کا جانور مر گیا تو غنی پر لازم ہے کہ دوسرے جانور کی قربانی کرے اور فقیر کے ذمہ دوسرا جانور واجب نہیں  اور اگر قربانی کا جانور گم ہوگیا یا چوری ہوگیا اور اوس کی جگہ دوسرا جانور خرید لیا اب وہ مل گیا تو غنی کو اختیار ہے کہ دونوں  میں  جس ایک کو چاہے قربانی کرے اور فقیر پر واجب ہے کہ دونوں  کی قربانیاں  کرے۔ (4)(درمختار) مگر غنی نے اگر پہلے جانور کی قربانی کی تو اگرچہ اس کی قیمت دوسرے سے کم ہو کوئی حرج نہیں  اور اگر دوسرے کی قربانی کی اور اس کی قیمت پہلے سے کم ہے تو جتنی کمی ہے اوتنی رقم صدقہ کرے ہاں  اگر پہلے کو بھی قربان کر دیا تو اب وہ تصد ق (5)واجب نہ رہا۔ (6


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے