QURBANI KE MASAIL PART 6


 قربانی کے مسائل 

مسئلہ32:  امام نے نماز پڑھ لی اس کے بعد قربانی ہوئی پھر معلوم ہوا کہ امام نے بغیر وضو نماز پڑھا دی تو نماز کااعادہ کیا جائے قربانی کے اعادہ کی ضرورت نہیں ۔(درمختار)

  مسئلہ 33:  یہ گمان تھا کہ آج عرفہ کا دن ہے اور کسی نے زوال آفتاب کے بعد قربانی کر لی پھر معلوم ہوا کہ عرفہ کا دن نہ تھا بلکہ دسویں  تاریخ تھی تو قربانی جائز ہوگئی۔ یوہیں  اگر دسویں  کو نماز عید سے پہلے قربانی کر لی پھر معلوم ہوا کہ وہ دسویں  نہ تھی بلکہ گیارہویں  تھی تو اس کی بھی قربانی جائز ہوگئی۔ (عالمگیری)

 مسئلہ 34:  نویں  کے متعلق کچھ لوگوں  نے گواہی دی کہ دسویں  ہے اس بناپر اوسی روز نماز پڑھ کر قربانی کی پھر معلوم ہوا کہ گواہی غلط تھی وہ نویں  تاریخ تھی تو نماز بھی ہوگئی اور قربانی بھی۔ (درمختار)

 مسئلہ 35:  ایامِ نحر گزر گئے اور جس پر قربانی واجب تھی اوس نے نہیں  کی ہے تو قربانی فوت ہوگئی اب نہیں  ہوسکتی پھر  اگر اوس نے قربانی کا جانور معین کر رکھا ہے مثلاً معین جانور کے قربانی کی منت مان لی ہے وہ شخص غنی ہو یا فقیر بہرصورت اوسی معین جانور کو زندہ صدقہ کرے اور اگر ذبح کر ڈالا تو سارا گوشت صدقہ کرے اوس میں  سے کچھ نہ کھائے اور اگر کچھ کھا لیا ہے تو جتنا کھایا ہے اوس کی قیمت صدقہ کرے اور اگر ذبح کیے ہوئے جانور کی قیمت زندہ جانور سے کچھ کم ہے تو جتنی کمی ہے اوسے بھی صدقہ کرے اور فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہے اور قربانی کے دن نکل گئے چونکہ اس پر بھی اسی معین جانور کی قربانی واجب ہے لہٰذااس جانور کو زندہ صدقہ کر دے اور اگر ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو منت میں  مذکور ہوا۔ یہ حکم اوسی صورت میں  ہے کہ قربانی ہی کے لیے خریدا ہو اور اگر اوس کے پاس پہلے سے کوئی جانور تھا اور اوس نے اوس کے قربانی کرنے کی نیت کر لی یا خریدنے کے بعد قربانی کی نیت کی تو اوس پر قربانی واجب نہ ہوئی۔ اور غنی نے قربانی کے لیے جانور خرید لیا ہے تو وہی جانور صدقہ کر دے اور ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔ (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)

مسئلہ 36:  قربانی کے دن گزر گئے اور اوس نے قربانی نہیں  کی اور جانور یا اوس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں  کیا یہاں  تک کہ دوسری بقر عید آگئی اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کر لے یہ نہیں  ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔(عالمگیری)

  مسئلہ 37:  جس جانور کی قربانی واجب تھی ایامِ نحر گزرنے کے بعد اوسے بیچ ڈالا تو ثمن کا صدقہ کرنا واجب ہے۔(عالمگیری)

 مسئلہ 38:  کسی شخص نے یہ وصیت کی کہ اوس کی طرف سے قربانی کر دی جائے اور یہ نہیں  بتایا کہ گائے یا بکری کس جانور کی قربانی کی جائے اور نہ قیمت بیان کی کہ اتنے کا جانور خرید کر قربانی کی جائے یہ وصیت جائز ہے اور بکری قربان کر دینے سے وصیت پوری ہوگئی اور اگر کسی کو وکیل کیا کہ میری طرف سے قربانی کر دینا اور گائے یا بکری کا تعین نہ کیا اور قیمت بھی بیان نہیں  کی تو یہ توکیل صحیح نہیں ۔ (عالمگیری)

 مسئلہ 39:  قربانی کی منت مانی اور یہ معین نہیں  کیا کہ گائے کی قربانی کرے گا یا بکری کی تو منت صحیح ہے بکری کی قربانی کر دینا کافی ہے اور اگر بکری کی قربانی کی منت مانی تو اونٹ یا گائے قربانی کر دینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی منت کی قربانی میں  سے کچھ نہ کھائے بلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کر دے اور کچھ کھا لیا تو جتنا کھایا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔ (عالمگیری)


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے