QURBANI KE MASAIL PART 5


 قربانی کے مسائل 
مسئلہ 22:  قربانی کا وقت دسویں  ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے بارہویں  کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن ، دوراتیں  اور ان دنوں  کو ایام نحر کہتے ہیں  اور گیارہ سے تیرہ تک تین دنوں  کو ایام تشریق کہتے ہیں  لہٰذا بیچ کے دو دن ایام نحر وایام تشریق دونوں  ہیں  اور پہلا دن یعنی دسویں  ذی الحجہ صرف یوم النحرہے اور پچھلا دن یعنی تیرہویں  ذی الحجہ صرف یوم التشریق ہے۔(درمختار وغیرہ)

  مسئلہ 23:  دسویں  کے بعد کی دونوں  راتیں  ایام نحر میں  داخل ہیں  ان میں  بھی قربانی ہوسکتی ہے مگر رات میں  ذبح کرنا مکروہ ہے۔ )(عالمگیری)

 مسئلہ 24:  پہلا دن یعنی دسویں  تاریخ سب میں  افضل ہے پھر گیارہویں  اور پچھلا دن یعنی بارہویں  سب میں  کم درجہ ہے اور اگر تاریخوں  میں  شک ہو یعنی تیس کا چاند مانا گیا ہے اور اونتیس کے ہونے کا بھی شبہہ ہے مثلاً گمان تھا کہ اونتیس کا چاند ہوگا مگر ابر وغیرہ کی وجہ سے نہ دکھایا شہادتیں  گزریں  مگر کسی وجہ سے قبول نہ ہوئیں  ایسی حالت میں  دسویں  کے متعلق یہ شبہہ ہے کہ شاید آج گیارہویں  ہو تو بہتر یہ ہے کہ قربانی کو بارہویں  تک مؤخر نہ کرے یعنی بارہویں  سے پہلے کر ڈالے کیونکہ بارہویں  کے متعلق تیرہویں  تاریخ ہونے کا شبہہ ہوگا تو یہ شبہہ ہوگا کہ وقت سے بعد میں  ہوئی اور اس صورت میں  اگر بارہویں  کو قربانی کی جس کے متعلق تیرہویں  ہونے کا شبہہ ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت صدقہ کر ڈالے بلکہ ذبح کی ہوئی بکری اور زندہ بکری میں  قیمت کا تفاوت ہو کہ زندہ کی قیمت کچھ زائد ہو تو اس زیادتی کو بھی صدقہ کر دے۔(عالمگیری)

  مسئلہ 25: ایام نحر میں  قربانی کرنا اوتنی قیمت کے صدقہ کرنے سے افضل ہے کیونکہ قربانی واجب ہے یا سنت اور صدقہ کرنا تطوّع محض ہے لہٰذا قربانی افضل ہوئی۔(عالمگیری) اور وجوب کی صورت میں  بغیر قربانی کیے عہدہ برآ نہیں  ہوسکتا۔


مسئلہ 26:  شہر میں  قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہوچکے لہٰذا نماز عید سے پہلے شہر میں  قربانی نہیں  ہوسکتی اور دیہات میں  چونکہ نماز عید نہیں  ہے یہاں  طلوع فجر کے بعد سے ہی قربانی ہوسکتی ہے اور دیہات میں  بہتر یہ ہے کہ بعد طلوع آفتاب قربانی کی جائے اور شہر میں  بہتر یہ ہے کہ عید کا خطبہ ہوچکنے کے بعد قربانی کی جائے۔(عالمگیری) یعنی نماز ہوچکی ہے اور ابھی خطبہ نہیں  ہوا ہے اس صورت میں  قربانی ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔

  مسئلہ 27:  یہ جو شہر و دیہات کا فرق بتایا گیا یہ مقام قربانی کے لحاظ سے ہے قربانی کرنے والے کے اعتبار سے نہیں  یعنی دیہات میں  قربانی ہو تو وہ وقت ہے اگرچہ قربانی کرنے والا شہر میں  ہو اور شہر میں  ہو تو نماز کے بعد ہو اگرچہ جس کی طرف سے قربانی ہے وہ دیہات میں  ہو لہٰذا شہری آدمی اگر یہ چاہتا ہے کہ صبح ہی نماز سے پہلے قربانی ہو جائے تو جانور دیہات میں  بھیج دے۔28(درمختار)

 مسئلہ 28:  اگر شہر میں  متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو تو پہلی جگہ نماز ہوچکنے کے بعد قربانی جائز ہے یعنی یہ ضرور نہیں  کہ عیدگاہ میں  نماز ہو جائے جب ہی قربانی کی جائے بلکہ کسی مسجد میں  ہوگئی اور عیدگاہ میں  نہ ہوئی جب بھی ہوسکتی ہے۔(درمختار، ردالمحتار)

  مسئلہ 29:  دسویں  کو اگر عید کی نماز نہیں  ہوئی تو قربانی کے لیے یہ ضرور ہے کہ وقت نماز جاتا رہے یعنی زوال کا وقت آجائے اب قربانی ہوسکتی ہے اور دوسرے یا تیسرے دن نماز عید سے قبل ہوسکتی ہے۔ (درمختار)

  مسئلہ30:  منیٰ میں  چونکہ عید کی نماز نہیں  ہوتی لہٰذا وہاں  جو قربانی کرنا چاہے طلوع فجر کے بعد سے کرسکتا ہے اوس کے لیے وہی حکم ہے جو دیہات کا ہے کسی شہر میں  اگر فتنہ کی وجہ سے نماز عید نہ ہو تو وہاں  دسویں  کی طلوع فجر کے بعد قربانی ہوسکتی ہے۔ (درمختار، ردالمحتار)

 مسئلہ 31:  امام ابھی نماز ہی میں  ہے اور کسی نے جانور ذبح کر لیا اگرچہ امام قعدہ میں  ہو اور بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو مگر ابھی سلام نہ پھیرا ہو تو قربانی نہیں  ہوئی اور اگر امام نے ایک طرف سلام پھیر لیاہے دوسری طرف باقی تھا کہ اس نے ذبح کر دیا قربانی
(بہار شریعت)


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے