QURBANI KE MASAIL PART 1





قربانی کے مسائل 

 قربانی کئی قسم کی ہے۔غنیؔ۱    اور فقیر دونوں  پر واجب،فقیر  ؔ۲پر واجب ہو غنی پر واجب نہ ہو،غنی  ؔ۳پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو۔ دونوں  پر واجب ہو اوس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی یہ کہا کہ  اﷲ     (عزوجل) کے لیے مجھ پر بکری یا گائے کی قربانی کرنا ہے یا اس بکری یا اس گائے کو قربانی کرنا ہے۔ فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خریدنے سے قربانی اوس پر واجب نہ ہوتی۔ غنی پر واجب ہو فقیر پرواجب نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کا وجوب نہ خریدنے سے ہو نہ منت ماننے سے بلکہ خدا نے جو اسے زندہ رکھا ہے اس کے شکریہ میں  اور حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت کے اِحیا میں جو قربانی واجب ہے وہ صرف غنی پر ہے۔)(عالمگیری)

مسئلہ 1:  مسافر پر قربانی واجب نہیں  اگر مسافر نے قربانی کی یہ تطوّع (نفل) ہے اور فقیر نے اگر نہ منت مانی ہو نہ قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو اوس کا قربانی کرنا بھی تطوّع ہے۔(عالمگیری)

          مسئلہ 2:  بکری کا مالک تھا اور اوس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی بعد میں  نیت کر لی تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں  ہوگی۔(عالمگیری)

          مسئلہ 3:  قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں ۔ اسلا  ؔ۱  م یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں ، اقا  ؔ ۲مت یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں ، تونگریؔ  ۳   یعنی مالک نصاب ہونا یہاں  مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں  جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، حر  ؔ ۴ یت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہو اوس پر قربانی واجب نہیں  کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں  لہٰذا عبادت مالیہ اوس پر واجب نہیں ۔ مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں ۔ عورتوں  پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں  پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بلوغ شرط ہے یا نہیں  اس میں  اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اوس کے مال سے قربانی کی جائے گی یا اوس کا باپ اپنے مال سے قربانی کرے گا۔  ظاہرالروایۃ  یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے اور نہ اوس کی طرف سے اوس کے باپ پر واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ (درمختار وغیرہ)

          مسئلہ4 :  مسافر پر اگرچہ واجب نہیں  مگر نفل کے طور پر کرے تو کرسکتا ہے ثواب پائے گا۔ حج کرنے والے جو مسافر ہوں  اون پر قربانی واجب نہیں  اور مقیم ہوں  تو واجب ہے جیسے کہ مکہ کے رہنے والے حج کریں  تو چونکہ یہ مسافر نہیں  ان پر واجب ہوگی۔ (درمختار، ردالمحتار)

          مسئلہ 5:  شرائط کا پورے وقت میں  پایا جانا ضروری نہیں  بلکہ قربانی کے لیے جو وقت مقرر ہے اوس کے کسی حصہ میں شرائط کا پایا جانا وجوب کے لیے کافی ہے مثلاً ایک شخص ابتدائے وقت قربانی میں  کافر تھا پھر مسلمان ہوگیا اور ابھی قربانی کاوقت باقی ہے اوس پر قربانی واجب ہے جبکہ دوسرے شرائط بھی پائے جائیں  اسی طرح اگر غلام تھا اور آزاد ہوگیا اوس کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ یوہیں  اول وقت میں  مسافر تھا اور اثنائے وقت میں  مقیم ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہوگئی یا فقیر تھا اوروقت کے اندر مالدار ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہے۔(عالمگیری)


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے