QURBANI KE JANWAR KA BAYAN PART 1

قربانی کے جانور کا بیان

قربانی کے جانور کا بیان

  مسئلہ 1:  قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں ۔ اونٹؔ  1  ،گائےؔ 2 ،بکریؔ 3 ہرقسم میں  اوس کی جتنی نوعیں  ہیں  سب داخل ہیں  نراور مادہ ،خصی  اور غیر خصی سب کا ایک حکم ہے یعنی سب کی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھینس گائے میں  شمار ہے اس کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھیڑ اور دنبہ بکری میں  داخل ہیں  ان کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔ (عالمگیری وغیرہ)

مسئلہ 2:  وحشی جانور جیسے نیل گائے اور ہرن ان کی قربانی نہیں  ہوسکتی وحشی اور گھریلو جانور سے مل کر بچہ پیدا ہوا مثلاً ہرن اور بکری سے اس میں  ماں  کا اعتبار ہے یعنی اوس بچہ کی ماں  بکری ہے تو جائز ہے اور بکرے اور ہرنی سے پیدا ہے تو ناجائز۔(عالمگیری)

  مسئلہ 3:  قربانی کے جانور کی عمر یہ ہونی چاہیے اونٹ پانچ سال کا گائے دو سال کی بکری ایک سال کی اس سے عمر کم ہو تو قربانی جائز نہیں  زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔ ہاں  دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں  سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اوس کی قربانی جائز ہے۔ (درمختار)

  مسئلہ 4:  بکری کی قیمت اور گوشت اگر گائے کے ساتویں  حصہ کی برابر ہو تو بکری افضل ہے اور گائے کے ساتویں  حصہ میں  بکری سے زیادہ گوشت ہو تو گائے افضل ہے یعنی جب دونوں  کی ایک ہی قیمت ہو اور مقدار بھی ایک ہی ہو تو جس کا گوشت اچھا ہو وہ افضل ہے اور اگر گوشت کی مقدار میں  فرق ہو تو جس میں  گوشت زیادہ ہو وہ افضل ہے اور مینڈھا بھیڑ سے اور دنبہ دنبی سے افضل ہے جبکہ دونوں  کی ایک قیمت ہو اور دونوں  میں  گوشت برابر ہو۔ بکری بکرے سے افضل ہے مگر خصی بکرا بکری سے افضل ہے اور اونٹنی اونٹ سے اور گائے بیل سے افضل ہے جبکہ گوشت اور قیمت میں  برابر ہوں ۔(درمختار، ردالمحتار)

 مسئلہ 5:  قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں ۔ جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں  اوس کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گیا اور مینگ تک ٹوٹا ہے تو ناجائز ہے اس سے کم ٹوٹا ہے تو جائز ہے۔ جس جانور میں  جنوں  ہے اگر اس حد کا ہے کہ وہ جانور چرتا بھی نہیں  ہے تو اوس کی قربانی ناجائز ہے اور اس حد کا نہیں  ہے تو جائز ہے۔ خصی یعنی جس کے خصیے نکال لیے گئے ہیں  یا مجبوب یعنی جس کے خصیے اور عضو تناسل سب کاٹ لیے گئے ہوں  ان کی قربانی جائز ہے۔ اتنا بوڑھا کہ بچہ کے قابل نہ رہا یا داغا ہوا جانور یا جس کے دودھ نہ اوترتا ہو ان سب کی قربانی جائز ہے۔ خارشتی جانور کی قربانی جائز ہے جبکہ فربہ ہو اور اتنا لاغر ہو کہ ہڈی میں  مغز نہ رہا تو قربانی جائز نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے