حيض ونفاس اور استحاضہ كا بيان(حنفی) haiz nifas aur itahad ka bayan

 حيض ونفاس اور استحاضہ كا بيان(حنفی)

حیض کسے کہتے ہیں؟:

بالِغہ عورت کے آگے کے مقام سے جو خون عادت کے طور پر نکلتا ہے اور بیماری یا بچہ پیدا ہونے کے سبب سے نہ ہو تو اسے حیض کہتے ہیں۔ (بہارِ شريعت حصہ۲ص۹۳) حیض کیلئے ماہواری، اَیّام، ایّام سے ہونا،مَہینا،مَہینا آنا،مہینے سے ہونا باری کے دن اورMONTHLY COURSE (منتھلی کورس)وغیرہ الفاظ بھی بولے جاتے ہیں۔

حیض کے رنگ:

حیض کے چھ رنگ ہیں:(1) سیاہ (2)سُرخ(3) سبز (4) زرد (5)گدلا(6)مٹیالا۔ سفید رنگ کی رطوبت حيض نہیں۔(بہارِ شريعت حصّہ ۲ ص ۹۵) یاد رہے کہ عورت کے اگلے مقام سے جوخالِص رطوبت بے آمیز ش خون نکلتی ہے اس سے وضو نہیں ٹوٹتا اگر کپڑے میں لگ جائے تو کپڑا پاک ہے ۔(اَیضاًص ۲۶)نوٹ:حمل والی عورت کو جو خون آیا وہ استحاضہ ہے۔ ( دُرِّمُختَار ج۱ص۵۲۴)

حیض کی حکمت:

بالِغہ عورت کے بدن میں فطرتاً ضَرورت سے کچھ زیادہ خون پیدا ہوتا ہے کہ حَمْل کی حالت میں وہ خون بچّے کی غذا میں کام آئے اور بچّے کے دودھ پینے کے زمانے میں وہی خون دودھ ہوجائے اگر ایسا نہ ہو توحَمْل اور دودھ پِلانے کے زمانے میں اِس کی جان پر بن جائے یہی وجہ ہے کہ حَمْل اور ابتدائے شِیر خوارگی(یعنی دودھ پلانے) میں خون نہیں آتا اور جس زمانہ میں نہ حَمْل ہو اور نہ دودھ پلانا تب وہ خون اگر بدن سے نہ نکلے تو قسم قسم کی بیماریاں ہوجائیں۔(بہارشریعت حصہ۲ ص۹۳)

حیض کی مُدّت:

حیض کی کم سے کم مُدّت تین دن اور تین راتیں یعنی پورے 72 گھنٹے ہیں۔ اگر ایک مِنَٹ بھی کم ہوا تو وہ حیض نہیں بلکہ اِستِحاضہ یعنی بیماری کا خون ہے اور زیادہ سے زیادہ مُدّت دس دن اور دس راتیں یعنی 240گھنٹے ہیں ۔

اِسْتِحَاضہ کسے کہتے ہیں؟:

جو خون بیماری کی وجہ سے آئے۔ اس کو اِستحاضہ (اِس۔تِ۔حاضہ)کہتے ہیں۔ (ایضاً)اُمّ الْمُؤمِنِین حضرت سیِّدتنا اُمّ سَلَمہ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ رسول اکرم ، نُورِ مجسّم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے عہدِ مبارک میں ایک عورت کے اگلے مقام سے خون بہتا رہتا تھا۔ اس کے لئے اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرت سیِّدتنااُمّ سَلَمہ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حُضُورِ اکرم صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے فتویٰ پوچھا۔ ارشاد فرمایا : اس بیماری سے پہلے مہینے میں جتنے دن و راتیں حيض آتا تھا،اُن کی گنتی شمار کرکے مہینے میں ان ہی کی مِقدار نَماز چھوڑ دے اور جب وہ دن جاتے رہیں تو غسل کرے اور شرم گاہ پر کپڑا باندھ کرنَماز پڑھے ۔(مؤطا امام مالک،ج۱ ص۷۷۔۷۸حديث ۱۴۰)

کیسے معلوم ہو کہ اِستِحاضہ ہے

اگر دس دن اور دس رات سے زیادہ خون آیا تو اگر یہ حیض پہلی مرتبہ آیا ہے تو دس دن تک حیض مانا جائے گا۔ اور اس کے بعد جو خون آیا وہ استحاضہ ہے، اوراگر پہلے عورت کو حیض آچکے ہیں اور اس کی عادت دس دن سے کم تھی تو عادت سے جتنے دن زیادہ خون آیا وہ استحاضہ ہے، مثال کے طور پر کسی عورت کو ہر مہینے میں پانچ دن حیض آنے کی عادت تھی اب کی مرتبہ دس دن آیا تو یہ دسوں دن حیض کے مانے جائیں گے البتّہ اگر بارہ دن خون آیا تو عادت والے پانچ دن حیض کے مانے جائیں گے اور سات دن استحاضے کے اور اگر ایک عادت مقرَّر نہ تھی بلکہ کسی مہینے چار دن تو کسی مہینے سات دن حیض آتا تھا تو پچھلی مرتبہ جتنے دن حیض کے تھے وہی اب بھی حیض کے دن مانے جائیں گے، اور باقی استحاضے کا خون ہوگا۔

حَیض کی کم از کم اور انتہائی عمر:

کم سے کم 9 برس کی عمر سے حَیض شروع ہوگا۔ اور حیض آنے کی اِنتہائی عمر پچپن سال ہے۔ اس عمر والی کو آئسہ (یعنی حیض و اولاد سے نا امید ہونے والی) کہتے ہیں۔(بہارِ شريعت حصہ۲ص۹۴) نو برس کی عمر سے پہلے جو خون آئے گا وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے یوں ہی 55برس کی عمر کے بعد جو آئے گا وہ بھی استحاضہ ہے۔ لیکن اگر کسی کو55 برس کی عمر کے بعد بھی خالِص خون بالکل ایسے ہی رنگ کا آیا جیسا کہ حیض کے زمانے میں آیا کرتا تھا تو اس کو حیض مان لیا جائے گا۔

دوحَیض کے درمیان کم از کم فاصلہ:

دو حیضوں کے درمیان کم سے کم پورے 15 دن کا فاصلہ ضَروری ہے ۔ (دُرِّمُختَارج۱ص۵۲۴) اسلامی بہن کو چاہئے کہ وہ حيض آنے کی مدّت اچّھی طرح یاد رکھے یا لکھ لے تاکہ شریعتِ مُطَہَّرہ پر اَحسن طریقے سے عمل کرسکے، مدّتِ حیض یاد نہ رکھنے کی صورت میں بَہُت سی پیچیدگیاں ہوجاتی ہیں۔

اَہَم مَسئلہ:

یہ ضَروری نہیں کہ مدت میں ہر وقت خون جاری رہے جب ہی حَيض ہو بلکہ اگر بعض بعض وقت بھی آئے، جب بھی حَيض ہے۔ (دُرِّمُختَارج۱ ص۵۲۳)

نِفاس کا بیان:

بچّہ ہونے کے بعدعورت کے آگے کے مقام سے جو خون آتا ہے وہ نفاس کہلاتا ہے۔(عالمگیری ج۱ ص۳۷)

نِفاس کی ضَروری وضاحت:

اکثراسلامی بہنوں میں یہ مشہورہے کہ بچّہ جننے کے بعداسلامی بہن 40 دن تک لازِمی طورپرناپاک رَہتی ہے یہ بات باِلکل غَلَط ہے۔برا ئے کرم!نِفاس کی ضَروری وَضاحت پڑھ لیجئے:

نِفاس کی زیا د ہ سے زيادہ مدّت 40 دن ہے یعنی اگر 40 دن کے بعدبھی بندنہ ہوتومرض ہے۔لہٰذا 40 دن پورے ہوتے ہی غُسل کرلے اور 40 دن سے پہلے بندہوجائے خواہ بچّہ کی ولادت کے بعد ایک مِنَٹ ہی میں بندہوجائے توجس وقت بھی بندہو غسل کرلے اورنَمازوروزہ شُروع ہوگئے۔ اگر 40 دن کے اندر اندر دوبارہ خون آگیا تو شُروعِ ولادت سے ختم ِخون تک سب دن نفاس ہی کے شمار ہوں گے ۔مَثَلاً ولادت کے بعد دو مِنَٹ تک خون آکر بند ہوگیا اورغسل کرکے نَماز روزہ وغیرہ کرتی رہی ، 40 دن پورے ہونے میں فقط دو مِنَٹ باقی تھے کہ پھر خون آگیا تو سارا چِلّہ یعنی مکمّل 40 دن نفاس کے ٹھہريں گے۔ جو بھی نَمازیں پڑھیں یا روزے رکھّے سب بَیکار گئے ،یہاں تک کہ اگر اس دَوران فرض و واجِب نَمازیں یا روزے قضاکئے تھے تو وہ بھی پھر سے ادا کرے۔ (ماخوذ از فتاوٰی رضویہ، ج۴ص ۳۵۴تا۳۵۶)

اِستِحاضہ کے اَحکام:

(1) اِستحاضے میں نہ نماز مُعاف ہے نہ روزہ ،نہ ایسی عورت سے صحبت حرام۔(عالمگیری ج۱ ص۳۹)

(2)مُستَحاضہ(مُس۔تَ۔حاضہ یعنی استحاضے والی) کا کعبہ شریف میں داخِل ہونا، طوافِ کعبہ ، وُضو کرکے قراٰن شریف کو ہاتھ لگانا اورا س کی تلاوت کرنا یہ تمام اُمُور بھی جائز ہیں۔ ( رَدُّالْمُحتَار،ج۱،ص۵۴۴)

(3) اِستحاضہ اگر اس حد تک پہنچ گیا کہ(بار بار خون آنے کے سبب) اس کو اتنی مُہلَت نہیں ملتی کہ وُضو کرکے فرض نَماز ادا کر سکے تو نماز کا پورا ایک وَقت شروع سے آخِر تک اسی حالت میں گزر جانے پر اس کو معذور کہا جائیگا ،ایک وُضو سے اُس وَقت میں جتنی نَمازیں چاہے پڑھے، خون آنے سے اس کا وُ ضو نہ جائے گا۔(بہارِ شريعت حصہ ۲ ص ۱۰۷)

(4)اگر کپڑاوغیرہ رکھ کر اتنی دیر تک خون روک سکتی ہے کہ وُضو کرکے فرض پڑھ لے، توعذر ثابت نہ ہوگا۔(یعنی ایسی صوررت میں ’’ معذور‘‘ نہیں کہلائے گی)(اَیضاً)(اسلامی بہنوں کی نماز، ص ۲۱۴ تا ۲۲۱)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے